ستیاناسی ، شجرالثوم ، بادنجان دشتی ، سورن چیری ، اجڑ کانٹا

ستیاناسی :

 لاطینی/ نباتاتی نام   ARGEMONE MEXICANA LINN

(عربی ) شجر الثوم ۔ (فارسی ) بادنجان دشتی ۔ ( بنگالی) سورن چیری ۔ (ہندی) اجڑ کانٹا ۔ (انگریزی) یلوتھیسل YELLOW THISTLE ۔




 یہ خودرو پودا دوفٹ سے سوا گز تک اونچا ہوتا ہے ۔ کھیتوں میں پیدا ہوکر انہیں اجاڑ دیتا ہے اس لیے اجڑ کانٹا اور ستیاناسی کہتے ہیں ۔ پتے بینگن کے پتوں سے مشابہ مگر کانٹوں سے بھر پور۔ پھول نازک اور ملائم گل لالہ کی مانند ماہ فروری و مارچ میں لگتا ہے ، جس میں ایک چارخانہ ڈوڈہ چھوٹے چھوٹے سیاہ گول بیجوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔  سوکھ  کر ڈوڈا پھٹ جاتا ہے تو بیج زمین پر گر پڑتے ہیں ۔ان بیجوں کو آگ پر ڈالا جاۓ تو پٹاخوں کی طرح تڑختے ہیں ۔ شاخ توڑنے پر زرد رنگ کا لیس دار اور بدبودار دودھ نکلتا ہے۔ اس کی جڑ کٹھ کے ہم شکل ہوتی ہے اسے چوک کہتے ہیں ۔

 رنگ: تازہ پودا سبز ،  خشک زرد ،  پتے سبز سفید ریشوں والے ،  پھول زرد سنہری ،  بیچ ۔ سیاہ ، جڑ خاکی ، کانٹا سفید ۔

ذائقه: تلخ ۔

مزاج :  سرد ۔

مقدار خوراك: سبز پتے اور شاخیں 60 گرام تک تخم 4 تا ۹  گرام ، بیجوں کا تیل 3 تا 7 بوند بطور مسہل 15 تا30 بوند ، جڑ کی چھال 4 گرام سے 12 گرام تک ، دودھ ۳ سے ۵ بوند تک ۔

مقام پیدائش: ہند و پاکستان ہر جگہ سوکھے جوہڑوں  ، کھنڈرات اور کھیتوں میں ماہ بیساکھ سے ساون تک بکثرت پیدا ہوتی ہے۔ اس پودے کا اصلی وطن میکسیکو ہے اس لیے انگریزی زبان میں اس کو میکسی کن پوپی بھی کہتے ہیں۔

 افعال و استعمال:  مسہل و مقئی ، قاتل کرم شکم اور داضع فساد بلغم و خون ہے۔ استسقاء کے مریض کو سانبھر نمک میں ستیاناس کے بیجوں کا تیل چند بوندیں ڈال کر کھلانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے ۔ سات بوند بتاشہ میں ڈال کر دودھ کے ہمراہ کھلانے سے بے خوابی کی شکایت دور ہو جاتی ہے ۔ ستیاناسی کی جڑ (چوک) عرق لیموں یا پانی میں گھس کر بواسیری مسوں پر لگانے سے درد کو فوراََ  آرام  آجاتا ہے اور چند  روز تک یہ عمل جاری رکھیں تو مسے گرجاتے یا مرجھا جاتے ہیں ۔ چوک کو باریک پیس کر مغلئی پھوڑے

(لاہور سور) پر چھڑک دیں اور اس کے او پرکسی مرہم کا پھایا چسپاں کر دیں ۔  اگلے روز پھایا  اتار کر نیم کے جوشاندہ سے زخم کو دھو کر صاف کریں اور پھر سفوف چھڑک کر اوپر مرہم کا پھایا چسپاں کریں ۔ یہ عمل دو دفعہ کافی ہے ۔ پھر روئی کی گدی گھی میں تر کرکے زخم پر رکھیں تو چند یوم میں زخم بالکل درست ہو جائے گا۔

 جڑ کا چھلکا 12 گرام ، مرچ سیاہ ۵ عدد نصف کلو پانی میں گھوٹ کر شہد خالص 18 گرام ملا کر پینا پھوڑے ، پھنسی ، خارش ، چنبل ، برص اور آتشک کے لیے مفید ہے۔ ستیاناس کی موٹی شاخ توڑ کر دودھ جمع کرلیں ۔ تو خشک شدہ دودھ پانی میں گھس کر آنکھ میں لگانا آشوب چشم کا دافع ہے ۔ اس کے بیجوں کا تیل ۳-۴ بوند بتاشہ میں ڈال کر کھلائیں اور اوپر سے پانی پلائیں تو ہرقسم کے کرم شکم ہلاک کرتا ہے ۔ اس کے پتوں کے عرق اور لگدی میں شنگرف ہڑتال ، پارہ ،  سیسہ اور چاندی سب کشتہ ہو جاتے ہیں۔

 بیجوں میں ڈریجن ڈروف (DRAGENDROF) بربرین (BERBERINE)، اور پروٹوپائن (PRO TOPINE ) الکالائیڈ پاۓ جاتے ہیں ۔

 

نوٹ: بعض مقام پر اس کو برم ڈنڈی کہتے ہیں لیکن برم ڈنڈی جدا چیز ہے۔

 

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.