سجی :
(لاطینی
نام SODIUM SALT NATRUM
(فارسی)
اشخار۔ (عربی) نظرون ۔ (بنگلہ ) ساجی کھار ۔ ساج ماٹی ۔
(مارواڑی) ساجی۔ ( گجراتی) ساجی کھار۔ (سنسکرت) سورچکا۔ (انگریزی) سوڈیم
کاربونیٹ SODIUM
CARBONATE
۔
مشہور عام
مصنوعی کھار ہے جو لانا ، اشناں وغیرہ بوٹیوں
کو جلا کر بناتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی زمانہ قدیم سے بنائی جاتی ہے۔ بہتر وہ ہے
جو صاف سیاہ براق ہو ۔ سجی گلابی رنگ کی بھی ہوتی ہے۔ اس کو لوٹن سجی کہتے ہیں ۔
نگھنٹ سنگرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سجی کھار اور سجی ایک ہی چیز ہے۔
رنگ: بھوری
، سیاہ ۔
ذائقہ: تیز وشور ۔
مزاج : گرم درجہ چہارم خشک درجہ چہارم ، زہریلی ۔
مقدار خوراک:
ایک جو ۔
مقام پیدائش:
گوگیرہ اور جھنگ وغیرہ کے مقامات میں بنائی جاتی ہے ۔
افعال و
استعمال: شدید جالی اوراکال ہے ۔ گوشت کھا جاتی ہے ۔ خفیف
مقدار میں
ہاضم اور منفث بلغم ہے۔ کھانسی دمہ اور ورم طحال کو مفید ہے ۔۔ اگر سرمے کے ہمراہ
استعمال کی جائے تو آنکھ کا جالا کاٹ دیتی
ہے۔ مسوں کو گرانے کے لیے بھی اس کا طلا کیا جاتا ہے۔
2 گرام کی مقدار میں مہلک ہے۔ اگر غلطی سے زیادہ
مقدار کھالی ہو تو گرم پانی زیادہ مقدار میں پلا کر قے کرائیں ، اس کے بعد انڈوں
کی سفیدی پانی میں پھینٹ کر پلائیں۔
( سم قاتل )
