ستونا :
لاطینی/باتاتی نام ALSTONIA SCHOLARIS LINN
(ہندی)
ست دن۔ چھتی دن ۔ چھتون۔ (مرہٹی) ساتون
ستونیا۔( نیپالی) چاتی دان ۔ ( بنگالی)
چھاتن ۔ چتون ۔ (سنسکرت) شپت پرن ۔ (انگریزی) ڈیٹا بارک DITA BARK۔
یہ سدا بہار
درخت تقریباََ ساٹھ فٹ اونچا ہوتا ہے۔ اس کی چھال کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں۔
ہر ایک ٹکڑا درمیان سے کھوکھلا ہوتا ہے اور اس کی ساخت اسفنجی ہوتی ہے۔ اس میں کسی
قسم کی بو نہیں ہوتی ۔ پتے سنبل کے پتوں سے مشابہ ہوتے ہیں اور ایک ایک شاخ میں
سات سات لگتے ہیں ۔ اس درخت کو لمبی لمبی پھلیاں جوڑوں کی شکل میں لگتی ہیں ۔ پھول پھاگن میں لگتے ہیں ۔ جیٹھ میں پھل آتا ہے
۔ اس کی خشک چھال دوا میں کام آتی ہے۔
رنگ: چھال کی بیرونی سطح کھردری خاکستری رنگ کی
ہوتی ہے لیکن اندرونی سطح کا رنگ ہلکا بادامی ہوتا ہے ۔ پھول ہرے سفیدی مائل ۔
ذائقه:
چھال تلخ ۔
مقدار خوراک: 12
گرام سیال رب چمچہ خرد قدرے پانی ملا کر۔
مقام پیدائش: یہ درخت صوبہ سرحد مشرقی بنگال اور
جنوبی ہندوستان کے خشک جنگلوں میں 3 ہزار فٹ کی بلندی پر خودرو پیدا ہوتا ہے ۔
افعال و استعمال: اس کے تازہ پتوں کی پلٹس گندے
اور سڑاند دار زخموں پر لگانے سے زخم صاف ہو جا تا ہے۔ اس کے پتوں کا رس ادرک کے
رس میں ملا کر عورتوں کو ایام زچگی میں پلانے سے رحم کی آلائش بہت جلد خارج ہو
جاتی ہے ۔ اس کی چھال قابض ، مقوی اور دافع بخار تاثیر رکھتی ہے۔ اسہال مزمن حمی
نزلی یعنی نزلہ کے بخار میں اس کی چھال نافع ثابت ہوئی ہے۔
کیمیائی
تجزیہ: سے اس سے ایک تلخ جوہر برآمد ہوا ہے جس کا نام ڈییٹین DATAIN یعنی جوہرستون رکھا
گیا ہے۔ اس کی تاثیر مثل کونین ہے۔ امریکہ اور ہالینڈ کے اطباء اسے کونین کے برابر
مفید خیال کرتے ہیں ۔ جب امعا کی خرابی کے ساتھ موسمی بخار کی شکایت ہو تو اس کا
خیساندہ پلاتے ہیں ۔ تقویت ہضم کے لیے پیپل کا سفوف اور بخار کے بعد کی کمزوری میں
اتیسں کا سفوف اس خیساندہ میں چھڑک دیتے ہیں۔
