شہد :
لاطینی نام
MELDIPURATOM
DEPURATUM/APIS MELLIFERA LINN
(عربی)
عسل ۔ (فارسی ) انگبین ۔ ( بنگلہ) مدہو۔ ( گجراتی ) مدھ ۔ (سندھی) ماکھی ۔ (سنسکرت) مدھو۔
(انگریزی) ہنی HONEY
۔
بہت سے پودوں اور درختوں کے پھول اپنے غدد سے جن
کو نکڑیز کہتے ہیں ایک شیریں سیال مادہ خارج کرتے ہیں ۔ شہد کی مکھیاں اس کو اپنے
مخصوص تھیلے یا معدہ میں جمع کر لیتی ہیں پھر ان کی غدود کی رطوبت اس شکر پراثر
کرتی ہے اور معمولی شکر کوانگوری شکر بنادیتی ہے۔ مکھیاں اس کو چھتے میں جمع کرتی
ہیں اس کی حفاظت کیلیے چھتے میں دوسری مکھیاں ہوتی ہیں جو خانہ داری کے امور انجام
دیتی ہیں۔
بلحاظ رنگت
سرخ وسفید دوقسم کا ہوتا ہے اس میں پھولوں کی بواور تاثیر بھی آجاتی ہے ۔ لیکن
کیمیاوی اجزاء تقریباََ ہرقسم کے شہد کے یکساں ہوتے ہیں۔ بنگال اور کشمیر میں پھول
زیادہ ہوتا ہے۔ وہاں کا شہد جس کو لوٹس ہنی LOTUS HONEY‘‘ کہتے ہیں امراض چشم میں بہت مفید خیال کیا
جاتا ہے۔ شہد کے اندر زیادہ تر دومختلف قسم کی شیرینیاں ہوتی ہیں جن کو انگریزی
میں لیولوز اور گلوکوز کہتے ہیں۔
جدید تحقیقات
سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں حیاتین ا ۔ ب ۔ ج
بھی مختلف مقداروں میں پائی جاتی ہیں ۔
مزاج: تازہ
گرم درجہ اول خشک درجہ دوم ، پرانا گرم
درجہ سوم خشک درجہ دوم ۔
مقدار خوراک:
36 گرام سے 48 گرام تک ۔
افعال و
استعمال: شہد قدرے ملین محلل ریاح ، دافع تعفن اور جالی ہے۔ بدن کو طاقت بخشتا ہے۔
پھیپھڑوں میں منفث بلغم تاثیر کرتا ہے۔ دواؤں کوتعفن سے بچانے اور ذائقہ خوشگوار
کرنے اوران کی قوت کو عرصہ تک برقرار رکھنے کے لیے اس کے قوام میں معجونات ،
جوارشات اور مربے تیار کئے جاتے ہیں ۔
قوت بدن اور
باہ کے لیے گرم دودھ میں ملا کر پیتے ہیں ۔ منفث بلغم ہونے کی وجہ سے کھانسی اور
دمہ میں تنہا یا مناسب ادویہ کے ساتھ چٹاتے ہیں ۔
سرد بیماریوں میں اکسیر ہے۔ لقوہ ، فالج میں ماء العسل بنا کر پلاتے ہیں ۔
جلا بصر کے لیے آنکھوں میں لگاتے ہیں۔ روئی کی بتی شہد میں تر کر کے اس پر سہاگہ
یا انزروت چھڑک کر کان میں رکھنا پیپ آنے کے لیے نافع ہے ۔ شہد تصفیہ خون اور
امراض قلب کے لیے بھی نافع ہے ۔
حارمزاج والے
کو 3 حصہ مکھن 1 حصہ شہد ، بلغمی مزاج کو
۱ حصہ مکھن یا گھی ۳ حصہ شہد ملا کر
استعمال کرنا چاہیے۔ ۔
حدیث شریف میں
آیا ہے کہ جو شخص شفا کا ارادہ رکھتا ہے وہ صبح کو بارش کے پانی میں شہد ملا کر
پئے ۔ شہد صاف کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ شہد کی بوتل کوگرم پانی میں تھوڑی دیر رکھ
کر چھان لیں اس میں پانی کی آمیزش نہ ہونے پاۓ ورنہ ترش ہوجائے گا ۔
