شگرف :
(عربی)
زنجفر ۔ ( گجراتی) سنگرف ۔ ( مرہٹی ) ہنگول ۔ ( بنگلہ ) ہنگل ۔ (انگریزی) سنے بار CINNABAR ۔
ایک معدنی
مشہور ، وزنی ، چمک دار چیز ہے جو کہ کئی طریق سے پارہ اور گندھک سے بناتے
ہیں۔ شنگرف رومی میں پارہ آدھا جزو،
گندھک، آٹھ جزو اور سرخ ہڑتال پانچ جزو
ہوتی ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ اس کی
قلمیں ہاتھ میں دبانے سے ٹوٹ جاتی ہیں اس کی رنگت گہری سیاہی مائل سرخ ہوتی ہے اور
اس میں گندھک کی بو نہیں آتی ۔ دوائی استعمال کے لیے اسے بہتر سمجھا جاتا ہے ۔
رنگ: گہرا سرخ
۔
ذائقه: بد
مزہ۔
مزاج : گرم درجه دوم خشک درجہ دوم ۔
مقدار خوراک:
ایک چاول سے ۲ چاول ۔
افعال و
استعمال: قابض ، مجفف ، محلل ، خون پیدا کرتا ہے۔ رطوبت زائد کو خشک کرتا ہے۔ مادہ
عضو ماؤف پر نہیں گرنے دیتا اورام گرم تحلیل کرتا ہے۔ خارش تر و خشک ، جذام اور
سوختہ آتش کو مفید ہے ۔ آتشک کے لیے مفید ہے۔ امراض بلغمی ، کھانسی اور دمہ میں اس کا کشتہ بہت مفید ہے ۔
کشتہ مقوی باہ بھی ہے۔ کہتے ہیں شنگرف کا ضرر دور کرنے کے لیے رداڑی (پنجابی )
راڑی مخصوص تریاق ہے۔
یہ غلہ گیہوں کے ساتھ اگتا ہے۔ چنانچہ شنگرف
راڑی برابر وزن سفوف لے کر ایک گرام سے تین گرام تک ایک لیٹر دودھ کے ہمراہ دیتے
ہیں اور دو تین روز صرف شہد و برنج کھلاتے ہیں ۔
(
قریب بسم)