شیر خشت ، ہرلالو ، کاشک مدہو

شیرخشت :

(عربی)(ہندی) ہرلالو۔ (فارسی ) شیرخشت ۔ (سنسکرت) کاشک مدھو۔ (انگریزی) MANNA ۔




موسم گرما میں بعض قسم کے درختوں سے رطوبت رس کر منجمد ہوجاتی ہے ۔  یہ دوقسم کی ہوتی ہے۔ ایک شیر خشت اشکی ۔ اس کے بڑے بڑے ملائم دانے ہوتے ہیں ۔ طب میں اس کو بہتر تصور کیا جا تا ہے۔ دوسری شیرخشت تختہ یا انگریزی ۔ اس کی ساخت مسام دار اور بھربھری ہوتی ہے اس کی رنگت باہر سے سفید لیکن توڑنے پر اندر سے زردی مائل سفید ہوتی ہے۔ یہ ڈاکٹری میں مستعمل ہے۔

رنگ: سفید ۔

ذائقہ: شیریں ۔

مزاج : گرم درجہ اول تر درجہ اول ۔

بدل: ترنجبین خراسانی ۔

مقدار خوراك: 24 گرام ۔

مقام پیدائش: سسلی ( اٹلی)۔ ایران، خراسان، ایشیائے کوچک میں پیدا ہوتی ہے اور صوبہ بہار میں ایک قسم کی گھاس سے جس کو کسیرا کہتے ہیں شیرخشت حاصل کرتے ہیں اور اسے اس علاقہ میں ہرلالو کہتے ہیں۔

مصلح: بادیان ، گلاب ۔

بدل: ترنجین ۔

افعال و استعمال: ملین طبع  ،  جالی ، مسہل صفرا واخلاط محرقہ ، ملین صدر، منفث و مخرج بلغم ۔ یہ امراض حاره خصوصاََ بخاروں میں بطورملین و مسہل مستعمل ہے۔ بچوں اور نازک مزاج اشخاص کے لیے جو دوسری کڑوی کسیلی دوا نہیں کھاسکتے ہیں نعمت ہے۔ سرفہ حار میں مفید ہے۔ چہرہ پر ملنا رنگ کو صاف کرتا ہے۔ افغانستان، قندھار وغیرہ میں اس کو تربوز میں رات کو رکھ کر صبح اس کا گودا کھاتے ہیں ۔ یہ نہایت اعلی اور بے ضرر مسہل ہے ۔ اس کو زیادہ مقدار میں دینے سے نفخ اور درد ہونے لگتا ہے ۔

(غیرسمی )

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.