سال ، ساکھون ، ساج ، شال ، شال کاچھ

سال ۔ ساکھون :

 لاطینی/ نباتاتی نام   SHKOREA ROBUSTA

(عربی) ساج ۔ (فارسی ) شال ۔( بنگالی ) شال کاچھ ۔ ( سندھی) شال ۔ (انگریزی) SAL TREE ۔



ایک بہت مضبوط پہاڑی درخت ہے۔ اس کی لکڑی کے شہتیر عمارتوں میں استعمال کئے جاتے ہیں ۔اس میں چھوٹے سے پھل آتے ہیں ۔ قحط پڑنے پر لوگ اس پھل کو پیس کر روٹی بناتے ہیں کیونکہ اس میں نشاستہ کی بہت مقدار ہوتی ہے۔ اس درخت کی گوند کو رال کہتے ہیں ۔ سال نر ہے اور ساگوان ماده۔

 رنگ: لکڑی سرخ ، پتے سبز ، پھل سیاه ۔

ذائقه: تلخ ۔

مزاج: سرد وخشک ۔

مقدارخوراك: 3 گرام ۔

مقام پیدائش : دہرہ دون ، مسوری اور مغربی بنگال کے جنگلات ۔

افعال و استعمال: اس کی رال آگ میں پھینکنے سے خوشبودار دھواں نکلتا ہے اس لیے اس کو ہندو گھرانوں میں مورتی پوجا کے وقت جلاتے ہیں۔ قابض ہونے کی وجہ سے کھانڈ کے ہمراہ پیچش میں کھلاتے ہیں ۔ رال کا سفوف بقدر ۱ گرام ابلے ہوئے دودھ نصف کلو میں ملا کر روزانہ صبح کے وقت پینا باہ بڑھاتا ہے۔

اس کے برادہ کی دھونی سے مچھر مرجاتے ہیں ۔ وبائی ہوا کی کثافت وسمیت باطل ہوتی ہے۔ لیپ محلل دموی وصفراوی اورام  ہے۔ معدہ کی سوزش اور پیاس کو تسکین دیتا ہے۔

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.