ستاور ، ست وری ، شتاوری ، شت مولی

ستاور :

 لاطینی نباتاتی نام  ASPARAGUS RACEMOSUS WILLD

 (ہندی) ستاور ۔ (سندھی) ست وری۔ (گجراتی) شتاوری۔ (سنسکرت) شت مولی۔

(انگریزی) ASPARAGLUS ۔




یہ ایک بیل دار پودا ہے اس کا تنا اور شاخیں خاردار ہوتی ہیں ، کا نٹے تیز اور مٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس کے پتے بالوں کی طرح باریک ہوتے ہیں ۔اس کو وئید شتومولی کہتے ہیں کیونکہ اس نبات کی سینکڑوں جڑی ہوتی ہیں ۔ جڑ پر لمبائی میں لکیریں ہوتی ہیں ۔ یہی جڑ اندرونی اور بیرونی طورپر دوا مستعمل ہے۔ موٹی اور سفید ستاور اچھی ہوتی ہے۔ قوت اس کی چار برس تک رہتی ہے۔

 رنگ: جڑ سفید زردی مائل ،  پھول سفید۔

 ذائقہ: شیریں لیس دار ۔

مزاج: سرد تر بدرجہ اول ۔

مقدار خوراك: 7 گرام سے 12 گرام تک ۔

مقام پیدائش: مشرقی پاکستان کے باغات ۔

افعال و استعمال : مقوی باہ ،  مولد شیر اور مغلظ منی ہے ۔۔ رقت منی اور جریان کو مفید ہے ۔ دودھ بڑھاتی ہے، اس کو زیادہ تر تنہا یا مناسب ادویہ کے ساتھ سفوف بنا کر کھلاتے ہیں ۔ تازہ جڑوں کا رس دودھ میں ملا کر سوزاک کے مریضوں کو استعمال کرایا جاتا ہے ۔

مشہوروئیدک نارائن تیل میں ستاور شامل کی جاتی ہے ۔

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.