رتن جوت :
لاطینی/ نباتاتی نام ONOSMA ECHIOIDES LINN
(عربی
) ابوخلسا ۔ شنجارحنا الغول ۔ (فارسی ) شنکارہو چویہ ۔ ( کاغانی) جوگی بادشاہ ۔
(انگریزی) الکنیٹ روٹ ALKANET ROOT ۔
ایک خار دار
نبات کی جڑ ہے۔اس کا پودا چھوٹا ہے۔ پتے کاہو کے پتوں کے مشابہ مگر ان سے چھوٹے
ہوتے ہیں۔
رنگ: پھول اور بیچ سیاہ ، جڑ نہایت سرخ ۔
ذائقه: تلخ ۔
مزاج: گرم خشک بدرجہ دوم
مقدار خوراک: 3 گرام سے 5 گرام ۔
مقام پیدائش: ہمالیہ میں کشمیر سے کماؤں تک ۔
افعال و
استعمال: قابض ، مجفف ، جالی ، مدمل ، مدرحیض وبول اور مفتت حصاة ہے۔
داخلاََ دستوں
کو بند کرتا ہے ، یرقان ، نقرس، درد گردہ
اور پرانے پتوں کو مفید ہے۔ زیادہ تر خارجاََ مستعمل ہے چنانچہ مرہموں میں شامل کی
جاتی ہے ۔ ضماد اس کا موم کے ساتھ زخم کو بھرتا ہے۔ سرکہ کے ساتھ سفید داغ کو دور
کرتا ہے ۔ خارجاََ قابض اور مجفف ہونے کی وجہ سے برص ، بہق ، نملہ ، کثرت پسینہ کے
لیے نافع ہے۔ بھوت چکتسا ساگر میں لکھا ہے کہ کئی جلدی امراض اور کئی اقسام کی
پھنسیوں پر اس کی جڑ کا لیپ کرتے ہیں۔
نوٹ: مطلق رتن جوت سے اس کی جڑ ہی مراد ہوتی ہے
جو تیل کو رنگین کرنے میں مستعمل ہے اور آنکھ کی دوا میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس
کی جڑ سے لال رنگ نکالا جاتا ہے۔ رتن جوت کے نام سے ایک دیگر پہاڑی بوٹی بھی مشہور
ہے جوتقریبا ایک بالشت بلند ہوتی ہے۔ اس کے پتے پودینہ کے پتوں کی مانند لیکن اس
سے لمبے اورنوک اور ڈنڈی کی جانب سے پتلے ہوتے ہیں ۔
پھول چھوٹا پتلا اور نیلگوں ہوتا ہے۔ اس کی
شاخیں ، پتے اور جڑلیس دار ہوتی ہیں ۔ صاحب خلاصۃ المفردات نے لکھا ہے کہ اس کا
ساگ اہل ہند پکا کر کھاتے ہیں۔
