زمین قند :
لاطینی نباتاتی نام CAMPANULATUS
(عربی ) زمین قند ۔( فارسی) سوسین کند ۔ (
تلیگو) منچا کند ۔ (سندھی) سورن ۔( بنگالی )اول۔
کچالو کی مانند ایک درخت کی جڑ ہے۔ اس کے جسم پر
جو چھوٹی چوٹی گلٹیاں ہوتی ہیں انہیں کاٹ کر زمین میں بیج کے طور پر گاڑ دینے سے
اس کا پودا اگتا ہے۔
رنگ: سرخی مائل ۔
ذائقہ پھیکا ،
کسیلا ۔
مزاج گرم درجه
دوم خشک درجہ دوم ۔
مقام پیدائش:
ہند وپاکستان کے گرم و مرطوب علاقوں میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔
افعال و
استعمال : اس کا سالن یا اچار بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ آیورویدک طب کے کئی نسخوں
کا جزواعظم زمین قند ہے۔ بواسیر خونی کے لیے زمین قند کو املی کے پتوں اور دھان کے
چھلکوں کے ساتھ ابال کر استعمال کراتے ہیں تاکہ اس کا تیزابی مادہ زائل ہو جاۓ یا
زمین قند کے گرد چکنی مٹی کا لیپ کر کے آگ میں پکاتے ہیں اور اسے نمک لگا کر کھاتے
ہیں۔
زمین قند دوقسم کا ہوتا ہے ایک خودرو دوسرا کاشت
کرده خودرو یعنی جنگلی زمین قند میں تیزابی مادہ زیادہ ہوتا ہے اسلیے پکانے سے
پیشتر اسکو اچھی طرح ابالنا چاہیے پھر اسکے ٹکڑے یا قتلے بنا کر گھی یا تیل میں
تلیں جب سرخ ہو جائیں تو بطور ترکاری پکا کرکھائیں۔ اس طریقہ سے بالکل بے ضرر ہو
جائے گا اور لذیذ بن جائے گا۔
فساد بلغم کو دفع کرتا ہے چنانچہ کھانسی اور دمہ
میں پرانے گڑ اور نمک کے ہمراہ ایک مٹی کی ہانڈی میں گل حکمت کر کے جلاتے ہیں اور
اسے باریک پیس کر بقدر نصف گرام پان میں رکھ کر کھلاتے ہیں ۔ قلیل الغذا ہے اور قابض
ہے۔ باؤ گولہ اور موٹاپا میں بھی مفید ہے۔ صفرا کا غلبہ بڑھاتا ہے۔ اسلیے جلدی
امراض داد ، خارش ، جذام وغیرہ میں مضر ہے ۔
