زنگار :
(عربی) زنجار (بنگلہ ) تامڑ جھنگار۔(گجراتی)
جنگار۔
(انگریزی)
SUB
ACETATE OF COPPER ۔
ایک چیز ہے جو
سرکہ اور تانبے سے بنتی ہے۔ اصلی زنگار کی پہچان یہ ہے کہ اس کو باریک پیس کر اور
پانی ملا کر کھرل کر لیا جاۓ تو تھوڑی دیر پڑا رہنے سے تمام زنگار تہ نشین ہوجاتا
ہے۔ پانی میں بالکل نہیں گھلتا۔البتہ گرم تیل میں حل ہو جاتا ہے۔
رنگ: سبز آبی ۔
ذائقه : کسیلا
۔
مزاج: گرم اور
خشک درجہ چہارم ۔
افعال و
استعمال: اکال ، مفرح ، مجفف قروح اور دافع عفونت ہے۔ اصلی زنگار باریک پسا ہوا 12
گرام گندہ بہروزہ 50 گرام گرم کئے ہوۓ میں حل ہوجاتا ہے اور اس کو زنگاری مرہم
کہتے ہیں۔
یہ مرہم
پھوڑوں پھنسیوں اور گندے زخموں پر لگاتے ہیں۔ مناسب ادویہ کے ساتھ سرمہ میں ڈال کر
جالا پھولا میں استعمال کرتے ہیں ۔اور سرمہ باریک پسا ہوا 50 گرام زنگار تین گرام
ملا کر کھرل کر کے بطور سرمہ روہوں (ککروں) پر لگاتے ہیں۔
ماکولاََ
زہراور قاتل ہے۔
