سانپ :
(عربی) حیہ ۔ (فارسی ) مار۔ (ہندی) ناگ سرپ ۔ (
سندھی) ناگ ۔ ( انگریزی) سنیک SNAKE ۔
مشہور موذی
جانور ہے اس کی بہت سی اقسام ہیں جن میں پھنیر یا ناگ (کوبرا) کوڑیالا (وائپر) اورافعی زیادہ مشہور ہیں ۔ پھنیر سانپ عموماََ
سیاہ رنگ کا ہوتا ہے۔ کوڑیالہ سانپ کا رنگ زردی مائل خاکستری یا ہلکا بادامی ہوتا
ہے اور اس کے جسم پر کالے اور بادامی نشانوں کی تین قطاریں ہوتی ہیں۔ باہر کی دو
قطاروں کے نشانوں کے گرد سفید حلقے ہوتے ہیں ۔افعی کا رنگ زردی مائل خاکستری ہوتا
ہے اور اس کی پیٹھ پر سفید سے رنگ کی دو ٹیڑھی لکیریں سر سے دم تک ہوتی ہیں۔ سر پر
چوکورسا نشان صلیب کی شکل کا ہوتا ہے ۔ سانپ کے منہ میں زہریلی تھیلیاں اوپر کے
جبڑے کی پچھلی طرف ہوتی ہیں اور ان تھیلیوں کا کاٹنے والے دانتوں سے تعل سے تعلق
ہوتا ہے۔ جس وقت ان دانتوں پر دباؤ پڑتا ہے تو زہر تھیلیوں سے باہر ٹپک پڑتا ہے ۔
یہ زہر حاصل
کرنے کے لیے سانپ کے منہ کوکھول کر ان دانتوں کو کسی چیز سے دبانا پڑتا ہے۔ یہ زہر
بالکل بے رنگ ہوتا ہے، اس کا قوام نہ پانی کی طرح پتلا نہ انڈے کی سفیدی کی طرح
گاڑھا ہوتا ہے ۔ جب اس کو دھوپ میں خشک کیا جا تا ہے تو یہ ہلکے پیلے رنگ کے دانوں
میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہر سانپ موسم
بہارمیں اپنے بدن سے باریک جالی دار پوست اتار دیتا ہے اس کو کینچلی کہتے ہیں ۔
مزاج : گرم وخشک بدرجہ سوم ۔
مقدار خوراك:
سانپ کے زہر کی 125 ملی گرام کا سواں حصہ ہے۔
افعال و استعمال: سانپ کی چربی بیرونی طور پر جالی
اور جاذب خون ہے۔ کہتے ہیں کہ سیاہ سانپ کی چربی مالش کرنے سے بال عمر بھر پیدا
نہیں ہوتے نیز اس کو تقویت باہ کے لیے بطور طلا استعمال کرتے ہیں۔ تسہیل ولادت اور بواسیری مسوں کو خشک کرنے کے
لیے اس کی کینچلی کی دھونی دیتے ہیں اور روغن زیتون میں جلا کر داء الثعلب پر
لگاتے ہیں۔ اس کی کینچلی کو کاغذوں اور کپڑوں میں رکھنے سے کیڑا انہیں لگتا۔
ہندو اطباء سانپ کے زہر کی خفیف مقدار تازہ گنے
کے رس میں ملا کر استسقاء کے مریضوں کو استعمال کراتے رہتے ہیں۔ آیوروید کے کئی
رسوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے لیکن سوائے اس کے کہ یہ آنتوں پر مخرش تاثیر کی
وجہ سے مسہل تاثیر رکھتا ہے، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ بذریعہ دہن کھلانے
سے یہ معدہ اور آنتوں میں جذب نہیں ہوتا۔
یہ بات یادرکھیں کہ منہ ، مسوڑوں یا حلق میں زخم
ہوگا تو یہ زہر زخم کے ذریعہ خون میں جذب ہو کر ز ہریلا اثر پیدا کرے گا۔
مغربی طب میں
اس کو مرگی ،رعشہ اور رقت الدم جریانی کے علاج میں بذریعہ انجکشن استعمال کیا جا
رہا ہے لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔
