زخم حیات :
لاطینی نباتاتی نام KALANCHOE PINNATA PERS
(بنگلہ ) ہیم سا گر ۔ (سندھی) کو تک۔ اندرونتی ۔
یہ بوٹی زمین
پرمفروش ہوتی ہے ۔ اس کے او پر روئیں سے ہوتے ہیں ۔ جڑ پتلی ولمبی ، پتے چونی کے
برابر، شاخوں اور پتیوں کے پاس کاسنی کی طرح ڈوڈیاں بکثرت ، بردار، نہایت چھوٹے
سیاہ تخم سے بھری ہوئیں ۔ جب اس کے پتے زمین کو چھوتے ہیں تو اس سے جڑیں نکل کر
پودا بن جاتا ہے۔
رنگ: سبز مائل بہ سفیدی ہوتا ہے۔ خشک ہونے پر
خاکستری رنگ کی ہو جاتی ہے۔
مقدار خوراک: 24 گرام ۔
مقام پیدائش: پنجاب کے میدانی علاقہ خصوصاََ ضلع
راولپنڈی میں تقریباََ ہر جگہ ندیوں تالابوں اور جوہڑوں کے کنارے فروری سے جون تک
بافراراط مگرنومبر، دسمبر اور جنوری میں کم ہوتی ہے۔
افعال و استعمال: بیرونی طور پر محلل اور حابس
الدم اور اندرونی طور پر مصفی خون ہونے کی وجہ سے دافع جذام و آتشک بیان کی جاتی
ہے ۔ زخم حیات تازہ 12 گرام کو 125 گرام پانی میں گھوٹ چھان کر کے۷ روز تک نہار منہ پلانے سے کرم شکم مرکر نکل
جاتے ہیں۔ اس کے پتوں کو کچل کر تازہ زخموں اور ضرب وسقطہ پر باندھتے ہیں۔ آدھا
کلو بوٹی کی لگدی میں 12 گرام سیسے کے ٹکڑے رکھ کر اس کے اوپر کھدرلپیٹ کر اوپرمٹی
کالیپ کر دیں اور گڑھے میں دس بارہ سیراپلوں کی آگ دینے سے سرخ رنگ کا کشتہ ہو
جاتا ہے جو اسہال خونی بواسیر اور سوزاک
میں مستعمل ہے۔
