سوما کلپا لتا ، سانبہہ ، اماں ، آسمانی بوٹی ، ماہوانگ ، ایفیڈرا

سوماکلپالتا  :

 لاطینی/ نباتاتی نام EPHEDRA SINICA

(سنسکرت) سانبہہ ( بلوچی) اماں۔ (کشمیری) آسانی بوٹی۔ ماہوانگ ( چینی) ایفیڈ را (انگریزی) EPHEDRA ۔




چھوٹا سا چکنا پودا ہے ، شاخیں سبز نازک ، پھول باریک ایک دو اکہرے ، بلا ڈنڈی ۔ پھل چھوٹا نصف انچ لمبا  بیضوی گلابی یا سرخ ۔ یہ پودا چھوٹی جھاڑی کی طرح ہوتا ہے ۔ جڑ میں سے متعدد تنے نکلتے ہیں اور ان میں سے پتلی پتلی نازک شاخیں پھولتی ہیں ۔ جو بے برگ ہوتی ہیں ۔ جوڑوں پر بجاۓ پتوں کے جھلی نما غلافی قشر ہوتے ہیں ۔ زمین کے قریب تنوں سے شاخیں زیادہ پھوٹتی ہیں اور جھاڑ کی طرح پھیلتی یا سیدھی اوپر کو کھڑی رہتی ہیں ۔ پتلی شاخوں میں اجزائے دوائی زیادہ موجود ہوتے ہیں ۔ تنا بیکار سمجھا جاتا ہے ۔ اس بوٹی کے دو بڑے جزو موثرہ ہیں۔ جنہیں کھار مسانیہ ( اینڈرین) اور کھار مسانیہ کاذب PSEUDO EPHEDRIN کہتے ہیں۔ ان دونوں کا تناسب ایفیڈرا کی اقسام پر منحصر ہے۔

کسی میں ایفیڈرین کم اور کسی میں زیادہ ہوتی ہے ۔

مقدار خوراك: سفوفاََ نصف  سے ایک گرام، جوشاندہ 15 ملی لیٹر ۔ جوہر 1/4 سے 1/2 گرین ۔

مقام پیدائش: چین ، جاپان ، بلوچستان ۔ جوایفییڈرا شمال مغربی پاکستان کے خشک علاقوں خصوصاََ بلوچستان میں پیدا ہوتا ہے ۔ اس میں مخصوص کھار کافی مقدار میں ہوتی ہے چنانچہ ایک یورپین کمپنی نے اس کی کھار نکالنے کے لیے ایک کارخانہ کوئٹہ میں قائم کیا ہوا ہے۔ ایفیڈرا کی ایک قسم جس کو پنجابی میں کچن اور لستک اور لاطینی میں ’’ایفیڈرپیڈ نکولیرس‘‘ کہتے ہیں ۔ جہلم کے مغرب اور ضلع راولپنڈی میں بھی ہوتی ہے لیکن اس میں کھار کا جزوکم ہوتا ہے ۔ مئی کے مہینے سے جوہر موثرہ کی مقدار گھٹنے لگتی ہے اس لیے دوائی استعمال کے لیے ایفیڈرا اکتوبراور نومبر میں حاصل کرنا چاہیے ۔

افعال و استعمال: چین میں اس بوٹی کو ہزارہا سال سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یونانی اور آیورویدک کتب میں اس دوا کا کوئی تذکرہ موجود نہیں۔ چونکہ یہ دوا تنفس کی نالیوں کو ڈھیلا کر دیتی ہے اس لیے اسے زیادہ تر دمہ بلغمی کے مریضوں کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔

کالی کھانسی اور پتی اچھلنے (چھپاکی) میں بہت سودمند ہے۔اس کے اثرات ایڈرنالین کے مانند ہوتے ہیں اور بعض لوگوں کو اس سے اختلاج قلب ۔ رعشہ متلی ضعف اور زیادتی پسینہ اور ورم جلد کی شکایت ہوجاتی ہے اس لیے اس کو استعمال کرانے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر بوس نے ایفیڈرا کے سفوف میں مساوی الوزن پانی ملا کر خیساندہ تیار کیا جس میں 7.5 فیصد کھاری جواہر موثرہ موجود تھے ۔ اس کو بمقدار نصف یا ایک چمچ خرد مدت تک استعمال کرانے سے کوئی سمی علامت پیدا نہیں ہوئی جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اس کے خیساندہ میں وہ مضرت موجود ہیں جو ایفیڈرا کے ہر دو جواہر موثرہ کے جداگانہ استعمال میں پائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر بوس نے اس کی پتلی بے برگ شاخوں کا سفوف بھی کثیر التعداد مریضوں کو استعمال کرایا۔ سفوف 10 سے 15 گرین کی مقدار میں دیا گیا۔ جن مریضوں کو مرض دمہ کی شکایت تھی ان کو یہ سفوف کھلانے سے آرام محسوس ہوا اور وہ چین سے سوجاتے تھے ۔ سوما کلپالتا کا سفوف اور جوشاندہ وجع مفاصل کے مریضوں کے لیے بھی مفید بیان کیا جا تا ہے۔

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.