شراب :
(عربی)
خمر۔ ( گجراتی) دارو۔ ( بنگلہ) مد ۔ (سندھی) داروں ۔ ( انگریزی) ALCOHOL ۔
نشہ آور سیال
ہے۔ مختلف اجزاء کے لحاظ سے اس کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ شکری سیال یا میٹھے رسوں میں
مہوایا یا پوست کیکر یا پیسٹ سے خمیر اٹھا کرعرق کھینچ لیتے ہیں۔ عموماً انگور،
سیب ، کھجور، جو، گندم سے شراب بنائی جاتی ہے۔
رنگ: مختلف ۔
ذائقہ : تلخ
بدبودار ۔
مزاج: مختلف ،
پرانی گرم خشک ۔
مقدار خوراک:
30 ملی لیٹر سے 60 ملی لیٹر تک ۔
افعال و
استعمال: شراب دافع تعفن اور سریع العفوذ ہے۔
بیرونی طور پر لگانے سے مبرد اور مسکن الم ہے ۔ اطباء زیادہ تر شراب کو
رسکپو ر یا سنکھیا کا جوہر اڑانے کے لیے ہی استعمال کرتے ہیں ۔ لمبی بیماری میں
عرصہ تک بستر پر پڑا رہنے سے بعض مقامات پر دباؤ پڑنے سے یا خراش ہونے سے زخم ہو
جاتے ہیں ان مقامات کی جلد کو سخت کرنے کے لیے سپرٹ ایک حصہ پانی 3 حصہ ملا کر
روزانہ لگاتے رہتے ہیں تا کہ زخم نہ ہونے پائے ۔
شراب غم کو دفع کرتی اور سرور پیدا کرتی ہے لیکن
اس کے نقصانات اس کے فوائد کی نسبت بہت زیادہ ہیں ۔ بخاروں میں جب کہ قلب کمزور ہو
گیا ہو یا ہذیان یا غفلت موجود ہو تقویت کے لیے پلاتے ہیں لیکن جب سر پر چوٹ لگنے
سے مریض بے ہوش ہو یا جسم سے خون جاری ہو تو ایسی حالت میں شراب ہرگز نہ دی جاۓ ۔
25 ملی لیٹر وسکی یا برانڈی تھوڑے سے نیم گرم
پانی میں ملا کر سوتے وقت پینے سے ضرور نیند آجاتی ہے۔ اگر بیماری سے اٹھے ہوئے
کمزور اور لاغر اشخاص شراب کو بطور ایک دواۓ غذائی کے ، رات کو کھانے سے قبل تھوڑی
مقدار میں سوڈا واٹر وغیرہ سے خوب ہلکی کر کے پئیں تو وہ فربہ ہو جاتے ہیں لیکن یہ
ضروری ہے کہ اس کے ساتھ مقوی غذا کھائی جاۓ کیونکہ یہ قدرتی غذا کی قائم مقام نہیں
ہے۔
چونکہ شراب کے نشہ میں حرکات جسمانی میں کسی قدر
بے اختیاری ہو جاتی ہے اور دماغی توازن درست نہیں رہتا اس لیے شراب نوشی ڈرائیوروں
اور کارخانوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کے لیے خطرناک ہے۔ شراب سے دل و
دماغ میں تحریک ہو کر دوران خون تیز ہو جا تا ہے ۔ نبض وتنفس کی حرکات تیز ہو جاتی
ہیں اور جسم میں گرمی محسوس ہوتی ہے لیکن کچھ دیر بعد حرارت جسم کم ہو جاتی ہے اور
ایسی حالت میں سردی لگ کر نمونیا ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے موسم سرما میں
گھر سے باہر جاتے وقت شراب پینا بہت مضر ہے۔
اسی طرح موسم
گرما میں شراب پی کر دھوپ میں چلنے پھرنے سے لوزدگی کے سبب مرگ نا گہانی کا شکار
ہونا پڑتا ہے۔ اودنی قسم کی دیسی شراب پینے سے درد سر کی شکایت ہو جاتی ہے کیونکہ
اس میں فیوزل آئل اور دیگر مضر اجزا ہوا کرتے ہیں۔ دن کے وقت بلاضرورت بطور عادت
شراب پینا نہایت مضر ہے۔ اس کے کثرت استعمال سے دل ، دماغ ، معدہ ، جگر اور گردوں
پر بہت مضر اثر پڑتا ہے۔
شرابی والدین کی اولا د مختلف امراض میں مبتلا
ہونے کے لیے مستعد رہتی ہے ۔ شراب خانہ خراب چہرہ کی خوبصورتی پر بہت تباہ کن اثر
رکھتی ہے۔ دوران خون تیز ہوجانے سے جلد کو ضرورت سے زیادہ غذائیت ملتی رہتی ہے جس
کی وجہ سے چکنائی کے غدد اور پسینہ کے غدد کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اس لیے بشرہ
کی جلد موٹی کھردری اور چکنی ہو جاتی ہے اور مسامات نمایاں ہو جاتے ہیں۔ اس کے
علاوہ آنکھیں اپنی قدرتی چمک کھوکر کر گدلی اور دھندلی بن جاتی ہیں۔ اکثر مذاہب نے
اس کو حرام اور ام الخبائث قرار دیا ہے۔
شراب کی بے
ہوشی رفع کرنے کے لیے گرم پانی اور نمک سے قے کرائیں۔ چہرے سرد پانی کے چھینٹے مار
یں۔ سراونچا کر کے اس پر برف لگائیں لیکن باقی جسم کو گرم رکھیں ۔ بغلوں اور رانوں
میں گرم پانی کی بوتلیں رکھیں۔ جب مریض ذرا ہوش میں آجائے تو اسے گرما گرم تیز
چائے یا قہوہ پلائیں۔
